Sunday, 21 August 2016

راولپنڈی کی تاریخ

راولپنڈی صوبہ پنجاب میں سطع مرتفع پوٹھوہار میں واقع ایک شہر ہے۔ یہ شیر پاکستان فوج اور پاکستان فضائیہ کا صدر مقام بھی ہے۔ جب 1960ء میں دارلحکومت اسلام آباد زیر تعمیر تھا۔ ان دنوں قائم مقام داللحکومت کا اعزاز حاصل تھا،

تاریخ
راولپنڈی پنڈی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ ماہرین آثارِ قدیمہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ پوتھوہار سطع مرتفع پر واقع ثقافت 3000 سال قدیم یہاں پر ملنے والا مادہ اس بات کا ثبوت پیش کرتا ہے کہ یہاں پر ملنے والا بدھ پرست لوگوں کا استحکام ٹیکسلا اور ویدی استحکام کے عمر ہے۔ ٹیکسلا اس بات سے اہمیت کا حامل ہے اس کا شمار گینس بک اۤف ورلڈ ریکارڈ بھی
ہوتا ہے کیونکہ یہاں پر دنیا کی سب سے قدیم یونیورسٹی  تکشاہلا یونیورسٹی کے اۤثار ہیں۔

یہ شہر ناکامی کی طرف ایک خانہ بدوش قوم واہٹ ہہن کی بردبادی کے باعث گیا تھا۔اس علاقے میں پہلے مسلمان حملہ آور محمود غزنوی نے تباہ شدہ شہر کو ایک گکھڑ حاکم  "گاہے گوہر کے حوالے کر دیا۔شہر بہر حال ایک حملہ آوری کے راستےپر ہونے کے باعث کامیاب نہ ہو سکا اور تب تک بنجر رہا جب تک ایک گھکڑ رہنما "جھنڈا خان "  اور اس نے شہر کی صورتحال کو درست کیا۔ اور اس کا نام ایک گاؤں کے نام پر رکھ دیا راولپنڈی گکھڑوں کے زیر حکومت رہا حتیٰ کہ آ اخری گکھڑ حکمران "مقرب خان " کو سکھوں کے ہاتھوں  1765ء میں شکست واقع ہوی۔سکھوں نے دوسرےعلاقوں کے تاجروں راولپنڈی میں اۤکر رہنے کی دعوت دی۔ یوں راولپنڈی تجارت کے لیے بہترین علاقہ ثابت ہوا۔
پھر انگریزوں نے 1849ء میں سکھوں کے راولپنڈی میں اپناٰئے گیےپیشے کی پیروی کرتے ہوئے راولپنڈی کو مستکم طور پر اننگریز فوج کا قعلہ بنایا گیا۔ 1880ٰء کے عشرہ میں راولپنڈی تک ریلوے لائن بچھائی گئ اور ٹرین سروس کا افتتاح 1 جنوری 1886ٰء میں کیا گیا
۔1951ء میں راولپنڈی میں پاکستان کے پہلے وزیراعظم جناب لیاقت علی خان کو ایک مقامی کمپنی باغ میں شہید کر دیا کیا۔ اس کمپنی باغ کا نام تبدیل کر کے وزیراعظم لیاقت علی خان کے منسوب کر کے لیاقت باغ رکھ دیا گیا۔2007ء میں لیاقت باغ کے مین گیٹ پر پاکستان کی سابق وزیراعظم بے نظیر کو قتل کیا گیا۔ 1979ء میں ان کے والد پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو راولپنڈی سٹیرل جیل میں پھانسی دی گئ تھی

No comments:

Post a Comment